سونے، چاندی، نقدی اور کاروباری مال کی زکوۃ ایک ہی جگہ پر۔ قیمتیں خود بخود تازہ ترین بین الاقوامی نرخوں سے لی جاتی ہیں۔
نیچے اپنے مال کی تفصیلات درج کریں۔ جو چیز آپ کے پاس نہیں اسے خالی چھوڑ دیں۔
نصاب وہ کم از کم مقدار ہے جس پر پہنچنے کے بعد زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ اسلامی شریعت میں دو معیار مقرر ہیں:
زیادہ تر علماء چاندی کے نصاب کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس کی مالیت کم ہونے کی وجہ سے زیادہ لوگ زکوۃ کی ادائیگی میں شامل ہو جاتے ہیں، جو غرباء کے لیے بہتر ہے۔ اگر آپ کے کل مال کی مالیت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور یہ مال ایک قمری سال (354 دن) تک آپ کی ملکیت میں رہے، تو اس پر 2.5% زکوۃ واجب ہوتی ہے۔
ذاتی استعمال کی چیزیں جیسے رہائشی گھر، گاڑی، گھریلو سامان اور پہننے کے کپڑوں پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔
جی ہاں۔ مال پر زکوۃ واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مکمل قمری سال (354 دن) تک نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ آپ کی ملکیت میں رہے۔ اگر سال کے دوران مال میں اضافہ یا کمی ہوتی رہے، لیکن سال کے آغاز اور اختتام پر نصاب موجود ہو، تو زکوۃ واجب ہوتی ہے۔
وہ قرض جو فوری طور پر آپ پر واجب الادا ہے (جیسے ادھار لیا گیا پیسہ جس کی واپسی کی تاریخ قریب ہے) اسے کل مال سے منہا کر دیا جاتا ہے۔ طویل مدتی قرض جیسے گھر کی قسط کا صرف وہ حصہ منہا ہوتا ہے جو سال کے اندر ادا کرنا ہے۔
اکثر علماء کے نزدیک سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوۃ واجب ہوتی ہے، چاہے وہ روزمرہ استعمال میں ہوں یا نہ ہوں، کیونکہ سونا چاندی بذاتِ خود مالیت رکھنے والی اشیاء ہیں۔
سونے اور چاندی کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ کی تازہ ترین قیمتوں اور ڈالر سے روپے کی شرح تبادلہ سے خود بخود لی جاتی ہیں۔ مقامی صرافہ بازار کی قیمت میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، اس لیے یہ ایک اندازہ ہے، حتمی فتویٰ کے لیے اپنے علاقے کے عالم سے رجوع کریں۔
نہیں، یہ صرف ایک حسابی معاون ٹول ہے تاکہ آپ کو اندازہ ہو جائے۔ زکوۃ سے متعلق حتمی مسائل اور اپنی مخصوص صورتحال کے بارے میں کسی مستند عالم یا مفتی سے رہنمائی ضرور لیں۔